73

انڈیا، پاکستان تعلقات: مختلف ممالک میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھانے کا مقابلہ کیوں ہے اور اس سے کیا خطرات ہو سکتے ہیں؟

ج سے تقریباً 76 سال قبل دنیا کے کسی ملک (جاپان) پر پہلی اور آخری بار ایٹم بم گرائے گئے تھے اور چھ اگست 1945 اور نو اگست 1945 وہ دو تاریخیں ہیں جو جوہری ہتھیاروں سے دنیا کے وجود کو لاحق خطرے کی طرف رہتی دنیا تک اشارہ کرتی رہیں گی۔

امریکہ نے چھ اگست کو جاپان کے شہر ہیروشیما اور نو اگست کو جاپان ہی کے شہر ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تھے۔ ایٹم بم انسانیت کو کس طرح تباہ کر سکتا ہے اس بات کے شواہد ہیروشیما اور ناگاساکی آج تک دے رہے ہیں۔ وہاں کے لوگ 76 سال گزرنے کے بعد بھی جوہری حملے کے اثرات سے باہر نہیں آ سکے ہیں۔

اس تباہی کو آنکھوں سے دیکھ لینے کے باوجود آج بھی دنیا کے نو ممالک کے پاس 13 ہزار سے زیادہ جوہری ہتھیار موجود ہیں جو اُن ہتھیاروں میں سے ہر ایک ہتھیار اس سے کہیں زیادہ تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو دنیا نے ہیروشیما اور ناگاساکی میں 76 برس قبل دیکھی۔

سویڈن کے تھنک ٹینک ’سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ (سپری) نے پیر کو اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق بہت سی اہم معلومات شامل ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں